اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت جو طویل عرصے سے خود کو دنیا بھر کے یہودیوں کی واپسی اور ہجرت کے لیے محفوظ سرزمین کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، اب غیر معمولی اور تشویشناک صورتِ حال سے دوچار ہے۔
فائننشیل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران تقریباً 10 ملین آبادی رکھنے والے اسرائیل سے قریب 150 ہزار صہیونی مقبوضہ فلسطین سے نکل چکے ہیں۔ اس عرصے میں مقبوضہ علاقوں میں آنے والے افراد کی تعداد ان سے کم رہی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو خالص منفی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق 2023 اور 2024 میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسرائیل سے جانے والوں کی تعداد وہاں آنے والوں سے زیادہ ہوگئی۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ رجحان رواں سال بھی برقرار رہے گا اور صہیونی حکومت مسلسل تیسرے سال آبادی میں کمی کا سامنا کرے گی۔
صہیونیوں کے انخلا کا سلسلہ 2023 کے آغاز میں کابینہ کی متنازع عدالتی اصلاحات کے باعث پیدا ہونے والے داخلی بحران کے بعد شروع ہوا، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے اس رجحان میں مزید تیزی پیدا کردی۔
عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر سرجیو ڈیلاپرگولا نے موجودہ صورتِ حال کو ’’انتہائی غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صدی میں پہلی مرتبہ صہیونی حکومت کو مسلسل برسوں میں خالص منفی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
2025 میں انخلا کی رفتار مزید تیز
تل ابیب یونیورسٹی کے محققین کے مطابق 2023 اور 2024 کے دوران تقریباً ایک لاکھ افراد مقبوضہ فلسطین چھوڑ چکے ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ 2025 میں مزید 45 سے 50 ہزار افراد وہاں سے ہجرت کرگئے۔
فائننشیل ٹائمز نے امریکہ منتقل ہونے والے 71 صہیونیوں سے گفتگو کے حوالے سے بتایا کہ جنگ اور سکیورٹی کے مسائل ہی نقل مکانی کی واحد وجوہات نہیں ہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حالات کے حوالے سے گہری تشویش بھی انخلا کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
یہ تشویش خصوصاً سیکولر اور لبرل صہیونیوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، جو سمجھتے ہیں کہ صہیونی حکومت سیاسی طور پر مزید دائیں بازو کی جانب بڑھ رہی ہے۔
معاشی مشکلات بھی صہیونیوں کے مقبوضہ فلسطین چھوڑنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ اسرائیل میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں مسلسل اضافے کے ساتھ تل ابیب جیسے شہروں میں مکانوں کی قیمتیں بھی انتہائی بلند ہوگئی ہیں۔
رپورٹ میں امریکہ منتقل ہونے والے ایک رئیل اسٹیٹ ماہر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تل ابیب کے قریب 100 مربع میٹر کے ایک اپارٹمنٹ کی قیمت تقریباً 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ امریکہ منتقل ہونے کے صرف ایک سال بعد وہ اور ان کی اہلیہ ایسا گھر خریدنے میں کامیاب ہوگئے جس کی قیمت وہ مقبوضہ فلسطین میں برداشت نہیں کرسکتے تھے۔
تاہم ماہرین کے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات صرف انخلا کرنے والوں کی تعداد نہیں بلکہ ان افراد کا سماجی اور پیشہ ورانہ مقام ہے۔
صہیونی ٹیکس ادارے کی ایک تحقیق کے مطابق 2023 اور 2024 میں امیر صہیونیوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین، خصوصاً ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں سے وابستہ افراد کی ہجرت کی شرح 2019 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہوگئی۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ پانچ برسوں کے دوران ٹیکس آمدنی میں کمی سے ہونے والا سالانہ نقصان 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں، انجینئرز اور ٹیکنالوجی کے ماہرین میں خالص منفی ہجرت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے جاری رہنے سے اسرائیل کا ہائی ٹیک شعبہ شدید متاثر ہوسکتا ہے، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ اور برآمدات کا نصف فراہم کرتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا انخلا صہیونی فوج پر بھی مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، جو لازمی فوجی سروس کے نظام پر انحصار کرتی ہے۔
صہیونی حکومت نے اس بڑھتے ہوئے انخلا کو روکنے کے لیے بیرون ملک حاصل ہونے والی بعض آمدنی پر ٹیکس میں چھوٹ سمیت مختلف اقدامات شروع کیے ہیں، تاہم بیرون ملک منتقل ہونے والوں کی واپسی اب بھی ایک بڑا سوال ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً دو لاکھ صہیونی یورپ میں رہائش پذیر ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران متعدد صہیونیوں نے جرمنی، پولینڈ، اسپین اور پرتگال سمیت یورپی یونین کے مختلف ممالک کی دوسری شہریت بھی حاصل کی ہے۔
لیسبن اور برلن جیسے یورپی شہروں میں صہیونی تارکین وطن کی کمیونٹیز قائم ہوچکی ہیں، جہاں وہ سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے جائیداد اور روزگار کے مواقع سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ